Practice Questions
Cambridge IGCSE Urdu as a Second Language: Paper 1 Reading and Writing — Practice Questions (0539)
A full original practice Paper 1 for Cambridge IGCSE Urdu as a Second Language (0539): all six exercises, from short answers, multiple matching and note-making to summary, functional writing and extended writing, at the syllabus tariffs, with answer keys, mark guidance and a separate grammar-support drill.
- Subject
- Urdu Language
- Level
- IGCSE
- Topic
- Paper 1 – Reading and Writing
- Author
- Marlbridge Academic Team
- Updated
- Reviewed by
- Farheen Zehra (what this means)
Aligned to Cambridge IGCSE Urdu Language (0539), 2025-2027. Official specification .
Syllabus page (what it covers and how it is assessed): Cambridge IGCSE Urdu Language.
Syllabus points this page covers
0539
- 1 Paper 1 – Reading and Writing (whole topic)
Found an error? Report a correction.
Need help with this topic? Request a free trial class for IGCSE Urdu Language (0539).
These are original questions written for Marlbridge, for revision and practice on this content. They are not reproduced past-paper questions, and they do not replicate the exam’s exact structure, question count or mark tariffs — examination boards hold copyright in their own papers. Use these alongside the official past papers available free from your board.
Related: Reading and Writing revision notes
Paper 1 is worth 60 marks across six exercises in 2 hours, with no dictionaries permitted; the two writing exercises (functional and extended writing) together carry 24 of those 60 marks, and both require the specified purpose, format and audience to be clearly reflected in the response.
This practice set follows that structure exercise by exercise. The tariffs and word limits below are the syllabus’s own (Cambridge IGCSE Urdu as a Second Language 0539 syllabus for 2025–2027, version 2, section 4, Paper 1): 8 + 9 + 9 + 10 + 8 + 16 = 60 marks. As in the real paper, every question and every answer is in Urdu. Grammar is not a separate exercise of this paper — see the grammar-support drill after the answers.
Exercise 1 — Short answer questions (8 marks)
نیچے دیا گیا اشتہار پڑھیے اور سوالات کے جواب ایک لفظ یا مختصر فقرے میں دیجیے۔
شہر کتاب میلہ — آئیے، کتابوں سے دوستی کیجیے!
شہر کی مرکزی لائبریری اس سال بھی اپنا سالانہ کتاب میلہ منعقد کر رہی ہے۔ میلہ 15 سے 19 نومبر تک ایکسپو سینٹر کے ہال نمبر 2 میں ہو گا اور روزانہ صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک کھلا رہے گا۔
- داخلہ ٹکٹ: 100 روپے۔ طلبہ اپنے اسکول یا کالج کا شناختی کارڈ دکھا کر مفت داخل ہو سکتے ہیں۔
- بچوں کا گوشہ: بارہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے ہر روز شام 4 بجے کہانی سنانے کی نشست ہو گی۔
- ادیبوں سے ملاقات: میلے کے آخری دن معروف ادیب اپنی نئی کتابوں پر دستخط کریں گے۔
- رعایت: میلے میں ہر کتاب کم از کم 20 فیصد رعایت پر دستیاب ہو گی۔
- مضمون نویسی کا مقابلہ: “میری پسندیدہ کتاب” کے عنوان پر ہونے والے مقابلے میں حصہ لینے کے لیے 10 نومبر تک لائبریری کی ویب سائٹ پر اپنا نام درج کروائیں۔ پہلا انعام 5000 روپے کی کتابیں ہیں۔
نوٹ: ہال کے اندر کھانے پینے کی اجازت نہیں، البتہ باہر کھانے کے اسٹال موجود ہوں گے۔ گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ محدود ہے، اس لیے بس یا رکشے سے آنا بہتر ہو گا۔
1. کتاب میلہ کتنے دن جاری رہے گا؟ [1]
2. میلہ کس جگہ منعقد ہو گا؟ [1]
3. مفت داخلے کے لیے طلبہ کو کیا دکھانا ہو گا؟ [1]
4. بچوں کے گوشے میں روزانہ کون سی سرگرمی ہو گی؟ [1]
5. ادیب کتابوں پر دستخط کب کریں گے؟ [1]
6. مضمون نویسی کے مقابلے کے لیے نام درج کروانے کی آخری تاریخ کیا ہے؟ [1]
7. اشتہار کے مطابق اپنی گاڑی کے بجائے بس یا رکشے سے آنا کیوں بہتر ہے؟ [1]
8. یہ اشتہار کس مقصد کے لیے لکھا گیا ہے؟ [1]
[Exercise 1 total: 8]
Exercise 2 — Multiple matching (9 marks)
چار نوجوانوں نے اپنے رضاکارانہ کام کے بارے میں لکھا ہے۔ ان کی تحریریں پڑھیے۔ پھر سوال 9 سے 17 تک ہر جملے کے سامنے اُس نوجوان کا حرف (A، B، C یا D) لکھیے جس پر وہ جملہ صادق آتا ہے۔ کوئی حرف ایک سے زیادہ بار بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
A — سارہ میں ہر اتوار اپنے محلے کے کمیونٹی ہال میں چھوٹے بچوں کو پڑھاتی ہوں۔ ان میں سے زیادہ تر بچوں کے ماں باپ خود پڑھنا لکھنا نہیں جانتے، اس لیے گھر پر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ کام میں نے دو سال پہلے اپنی دادی کے کہنے پر شروع کیا تھا، جو ساری عمر استانی رہیں۔ شروع میں صرف چار بچے آتے تھے، اب پندرہ آتے ہیں۔ سب سے زیادہ خوشی مجھے اُس دن ہوئی جب ایک بچی نے پہلی بار پوری کہانی خود پڑھ کر سنائی۔
B — عمران میں ہفتے میں دو شامیں ایک سرکاری ہسپتال کے استقبالیہ پر رضاکار کے طور پر کام کرتا ہوں۔ میرا کام مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو صحیح وارڈ تک پہنچانا اور فارم بھرنے میں ان کی مدد کرنا ہے۔ میں آگے چل کر ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں، اس لیے میں نے سوچا کہ ہسپتال کا ماحول قریب سے دیکھ لوں۔ سچ کہوں تو شروع کے ہفتوں میں مریضوں کی تکلیف دیکھ کر میں بہت پریشان ہو جاتا تھا، مگر اب میں نے اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔
C — نادیہ ہمارے شہر کے ساحل پر ہر مہینے ہزاروں پلاسٹک کی بوتلیں اور تھیلیاں جمع ہو جاتی ہیں۔ میں اور میری سہیلیاں ہر مہینے کے پہلے اتوار کو صفائی مہم چلاتی ہیں۔ پچھلے سال ہم صرف چھ لوگ تھے، لیکن جب ہم نے اپنی تصویریں سوشل میڈیا پر ڈالیں تو اب ہر مہم میں پچاس سے زیادہ لوگ آتے ہیں۔ یہ کام تھکا دینے والا ضرور ہے، مگر مجھے لگتا ہے کہ اگر ہم نے آج اپنا ساحل نہ بچایا تو ہماری آنے والی نسلیں اسے کبھی صاف نہیں دیکھ پائیں گی۔
D — بلال میں بزرگوں کے ایک رہائشی مرکز میں جا کر وہاں رہنے والوں کو موبائل فون پر ویڈیو کال کرنا سکھاتا ہوں، تاکہ وہ بیرونِ ملک بسنے والے اپنے بچوں اور پوتوں پوتیوں سے بات کر سکیں۔ یہ خیال مجھے اُس وقت آیا جب میں نے دیکھا کہ میرے نانا کو لندن میں رہنے والے ماموں سے بات کرنے میں کتنی مشکل ہوتی ہے۔ کچھ بزرگ جلدی سیکھ لیتے ہیں اور کچھ کو ایک ہی بات کئی بار سمجھانی پڑتی ہے۔ بدلے میں وہ مجھے اپنی جوانی کے دلچسپ قصے سناتے ہیں۔
9. کسی رشتہ دار نے اس نوجوان سے یہ کام شروع کرنے کو کہا۔ ______ [1]
10. یہ کام اس نوجوان کے مستقبل کے پیشے سے جڑا ہوا ہے۔ ______ [1]
11. انٹرنیٹ کی وجہ سے اس نوجوان کے کام میں شریک ہونے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ ______ [1]
12. اس نوجوان کو ایک ہی بات بار بار سمجھانی پڑتی ہے۔ ______ [1]
13. شروع میں یہ کام اس نوجوان کے لیے جذباتی طور پر مشکل تھا۔ ______ [1]
14. اس کام کے بدلے اس نوجوان کو پرانے زمانے کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ ______ [1]
15. یہ نوجوان جن کی مدد کرتا/کرتی ہے، ان کے والدین ان کی پڑھائی میں مدد نہیں کر سکتے۔ ______ [1]
16. اس نوجوان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی ماحول بچانے سے متعلق ہے۔ ______ [1]
17. اس نوجوان نے ایک خاص کامیابی کو اپنے کام کا سب سے خوش گوار لمحہ قرار دیا۔ ______ [1]
[Exercise 2 total: 9]
Exercise 3 — Note-making (9 marks)
نیچے دیا گیا مضمون پڑھیے اور دیے گئے عنوانات کے تحت مختصر نوٹس لکھیے۔
پاکستان کا چلتا پھرتا فن: ٹرک آرٹ
پاکستان کی سڑکوں پر سفر کرنے والا کوئی بھی شخص رنگ برنگے ٹرکوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ان ٹرکوں پر بنے پھول، پرندے، پہاڑوں اور دریاؤں کے مناظر، اور خوب صورت خط میں لکھے اشعار انھیں ایک چلتی پھرتی تصویر بنا دیتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس فن کو “پاکستانی ٹرک آرٹ” کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
ٹرک آرٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے شوخ اور چمک دار رنگ ہیں۔ سرخ، پیلا، سبز اور نیلا رنگ کھلے دل سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹرک کے پچھلے حصے پر اکثر کوئی شعر، دعا یا مزاحیہ جملہ لکھا ہوتا ہے، جیسے “دیکھ مگر پیار سے”۔ اس کے علاوہ ٹرک کے نچلے حصے میں لٹکتی زنجیریں اور گھنٹیاں چلتے ہوئے ٹرک کے ساتھ ایک خاص آواز پیدا کرتی ہیں۔
ٹرک مالکان اپنی گاڑیوں کو سجانے پر اچھی خاصی رقم کیوں خرچ کرتے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ڈرائیور مہینوں گھر سے دور رہتے ہیں اور ٹرک ہی ان کا دوسرا گھر ہوتا ہے، اس لیے وہ اسے دلہن کی طرح سجانا پسند کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خوب صورت ٹرک کو زیادہ کام ملتا ہے، اور کچھ اسے اپنے علاقے اور ثقافت سے محبت کا اظہار سمجھتے ہیں۔
یہ فن کسی اسکول یا کالج میں نہیں سکھایا جاتا۔ کراچی اور راولپنڈی جیسے شہروں کی ورکشاپوں میں نوجوان شاگرد برسوں کسی استاد کے ساتھ رہ کر یہ ہنر سیکھتے ہیں۔ پہلے وہ صرف رنگ ملاتے اور برش صاف کرتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ انھیں سادہ نقش بنانے کی اجازت ملتی ہے۔ ستر سالہ استاد رحیم بخش کہتے ہیں: “ایک اچھا ٹرک مصور بننے میں کم از کم دس سال لگتے ہیں۔”
آج یہ فن کئی مشکلات سے دوچار ہے۔ ہاتھ سے نقش و نگار بنوانے کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے، اس لیے بہت سے مالکان مشین سے چھپے سستے اسٹیکر لگوا لیتے ہیں۔ دوسری طرف نئی نسل کے بہت سے نوجوان اس کام میں کم آمدنی دیکھ کر دوسرے پیشے اختیار کر رہے ہیں۔ استاد رحیم بخش افسوس سے بتاتے ہیں کہ ان کے اپنے بیٹے نے یہ کام سیکھنے سے انکار کر دیا۔
اس کے باوجود ٹرک آرٹ ختم نہیں ہوا، بلکہ اس نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ آج یہی نقش و نگار چائے کی کیتلیوں، کرسیوں، کپڑوں اور موبائل فون کے کور پر بھی نظر آتے ہیں۔ کئی پاکستانی فن کاروں نے بیرونِ ملک نمائشوں میں ٹرک آرٹ پیش کیا ہے، اور بعض غیر سرکاری تنظیمیں اسکولوں میں ورکشاپس منعقد کر کے بچوں کو اس فن سے روشناس کروا رہی ہیں۔ یوں یہ فن سڑکوں سے نکل کر گھروں اور نمائش گاہوں تک پہنچ گیا ہے۔
18. مضمون کی مدد سے نیچے دیے گئے عنوانات کے تحت مختصر نوٹس لکھیے۔ پورے جملے لکھنا ضروری نہیں۔
(a) ٹرک آرٹ کی نمایاں خصوصیات
- …
- …
- … [3]
(b) یہ فن سیکھنے کا طریقہ
- …
- … [2]
(c) اس فن کو درپیش مشکلات
- …
- … [2]
(d) یہ فن آج کن نئی صورتوں میں زندہ ہے
- …
- … [2]
[Exercise 3 total: 9]
Exercise 4 — Summary (10 marks)
19. مشق 3 کے مضمون کی بنیاد پر ایک پیراگراف میں خلاصہ لکھیے کہ آج ٹرک آرٹ کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور یہ فن کن نئے طریقوں سے زندہ ہے۔ خلاصہ 100 الفاظ سے زیادہ نہ ہو، اور جہاں تک ممکن ہو اپنے الفاظ استعمال کیجیے۔ [10]
Exercise 5 — Writing exercise (8 marks)
20. آپ کا چھوٹا بھائی آج کل اپنا زیادہ وقت موبائل فون اور کھیل میں گزارتا ہے اور اس کے امتحان قریب ہیں۔ اسے تقریباً 120 الفاظ کا ایک خط لکھیے۔
اپنے خط میں:
- بتائیے کہ آپ یہ خط کیوں لکھ رہے ہیں؛
- وقت کے بہتر استعمال کے لیے کم از کم دو مشورے دیجیے؛
- بتائیے کہ ان مشوروں پر عمل کرنے سے اسے کیا فائدہ ہو گا۔
(مقصد: مشورہ دینا۔ طرزِ تحریر: غیر رسمی خط۔ مخاطب: آپ کا چھوٹا بھائی۔) [8]
Exercise 6 — Extended writing exercise (16 marks)
21. آپ کے اسکول کا رسالہ اس موضوع پر طلبہ کے مضامین شائع کر رہا ہے:
“کیا اسکول کے طلبہ کو گرمیوں کی چھٹیوں میں کوئی جز وقتی کام کرنا چاہیے؟”
رسالے کے لیے تقریباً 200 الفاظ کا ایک مضمون لکھیے۔ آپ اپنی تحریر میں یہ نکات شامل کر سکتے ہیں:
- چھٹیوں میں کام کرنے کے فائدے؛
- اس کے ممکنہ نقصانات؛
- آپ کی اپنی رائے اور اس کی وجہ۔
(مقصد: اپنی رائے دلائل کے ساتھ پیش کرنا۔ طرزِ تحریر: رسالے کا مضمون۔ قارئین: اسکول کے رسالے کے طلبہ۔) [16]
Answers
Exercise 1
1. پانچ دن [1] 2. ایکسپو سینٹر (ہال نمبر 2) [1] 3. اسکول/کالج کا شناختی کارڈ [1] 4. کہانی سنانا / کہانی سنانے کی نشست [1] 5. میلے کے آخری دن [1] (accept: 19 نومبر) 6. 10 نومبر [1] 7. گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ محدود ہے [1] 8. لوگوں کو کتاب میلے میں آنے کی دعوت دینا / میلے کی معلومات دینا [1] — a gist answer (R4); reject a single detail such as “کتابوں پر رعایت”.
Total: 8.
Exercise 2
9. A (دادی کے کہنے پر) [1] 10. B (ڈاکٹر بننا چاہتا ہے) [1] 11. C (سوشل میڈیا پر تصویریں) [1] 12. D [1] 13. B (مریضوں کی تکلیف دیکھ کر پریشان) [1] 14. D (جوانی کے قصے) [1] 15. A (ماں باپ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے) [1] 16. C [1] 17. A (بچی نے پہلی بار پوری کہانی پڑھی) [1]
Total: 9. Check the traps: A’s group also grew (4 → 15), but not through the internet, so 11 is C only; D was inspired by his grandfather’s difficulty, but nobody asked him, so 9 is A only.
Exercise 3
One mark per relevant note; brief notes are enough, and whole sentences copied from the text are not needed.
18. (a) any three of: شوخ اور چمک دار رنگ؛ پچھلے حصے پر شعر، دعا یا مزاحیہ جملہ؛ لٹکتی زنجیریں اور گھنٹیاں (خاص آواز)؛ پھول، پرندے اور قدرتی مناظر [3] (b) ورکشاپ میں برسوں استاد کے ساتھ رہ کر [1]؛ پہلے رنگ ملانا اور برش صاف کرنا، بعد میں سادہ نقش [1] [2] (c) ہاتھ کے کام کی زیادہ لاگت / مالکان سستے چھپے اسٹیکر لگواتے ہیں [1]؛ کم آمدنی کی وجہ سے نوجوان دوسرے پیشے اپنا رہے ہیں [1] [2] (d) any two of: کیتلیوں، کرسیوں، کپڑوں اور فون کور پر نقش؛ بیرونِ ملک نمائشیں؛ تنظیموں کی اسکولوں میں ورکشاپس [2]
Total: 3 + 2 + 2 + 2 = 9. A note under the wrong heading (for example “دس سال لگتے ہیں” under (c)) is not credited there. The reasons owners decorate their trucks (paragraph 3) belong to none of the four headings.
Exercise 4
19. Content points available (the question limits the summary to difficulties and new forms, so the reasons for decorating and the way the art is learnt earn nothing):
- ہاتھ سے نقش و نگار بنوانا بہت مہنگا ہو گیا ہے
- اس لیے مالکان سستے، مشینی اسٹیکر لگوا لیتے ہیں
- کم آمدنی کی وجہ سے نوجوان یہ کام نہیں سیکھنا چاہتے / دوسرے پیشے اپناتے ہیں
- نقش و نگار اب روزمرہ اشیا — برتنوں، فرنیچر، کپڑوں، فون کور — پر نظر آتے ہیں
- پاکستانی فن کار اسے بیرونِ ملک نمائشوں میں پیش کر رہے ہیں
- غیر سرکاری تنظیمیں اسکولوں میں ورکشاپس کے ذریعے بچوں کو اس سے روشناس کروا رہی ہیں
- یہ فن سڑکوں سے گھروں اور نمائش گاہوں تک پہنچ گیا ہے
Model summary (93 words):
اب ہاتھ سے ٹرک سجوانا بہت مہنگا ہو گیا ہے، اس لیے بہت سے مالک چھپے ہوئے سستے اسٹیکروں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ آمدنی کم ہونے کی وجہ سے نوجوان بھی یہ ہنر سیکھنے کے بجائے دوسرا روزگار ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ فن مٹا نہیں۔ اس کے نقش اب گھریلو برتنوں، فرنیچر اور لباس کی زینت بن گئے ہیں، پاکستانی فن کار اسے دوسرے ملکوں کی نمائشوں میں متعارف کروا رہے ہیں، اور کچھ تنظیمیں اسکولوں میں تربیتی نشستوں کے ذریعے بچوں کو اس سے واقف کرا رہی ہیں۔
Mark guidance [10]. The syllabus fixes the total (10), the maximum length (no more than 100 words), the source (an aspect or aspects of the Exercise 3 text), the instruction to use your own words as far as possible, and the objectives tested (R2, R3, W1–W5). It does not publish how the ten marks divide, so the split below is Marlbridge’s practice convention, not Cambridge’s scheme:
- Content (up to 5): one mark for each relevant point from the list above, to a maximum of 5.
- Language (up to 5): own words rather than lifted sentences; one organised paragraph with linking words (اس لیے، اس کے باوجود، اور); accurate agreement, spelling and punctuation; within the 100-word limit.
Exercise 5
20. Model letter (about 110 words):
پیارے بھائی، السلام علیکم۔ امید ہے تم خیریت سے ہو گے۔ والدہ نے بتایا کہ آج کل تمہارا زیادہ وقت موبائل اور کھیل میں گزرتا ہے، اسی لیے یہ خط لکھ رہا ہوں۔ بھائی، وقت وہ دولت ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو کبھی واپس نہیں آتی۔ میری رائے میں تم ایک سادہ سا ٹائم ٹیبل بنا لو: صبح کا وقت پڑھائی کے لیے، شام کا کھیل کے لیے اور رات کا آرام کے لیے۔ روزانہ تھوڑا تھوڑا پڑھو گے تو امتحان کے دنوں میں پریشانی نہیں ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ تم میری بات پر ضرور غور کرو گے۔ والدہ کو سلام کہنا۔ تمہارا بھائی، احمد
Mark guidance [8]. The syllabus sets 8 marks, approximately 120 words, a stated purpose, format and audience, and objectives W1–W5; the split below is Marlbridge’s practice convention:
- Task and communication (up to 4): all three bullet points covered, the two pieces of advice developed rather than listed [2]; letter format — greeting, closing and signature — and a register consistently right for a younger brother (تم throughout, warm but not childish) [2].
- Language (up to 4): accurate gender and verb agreement, including نے with transitive perfective verbs [2]; a range of linking words and sentence types, correct spelling and punctuation [2].
Exercise 6
21. Model article (about 200 words, excluding the headline):
چھٹیوں میں کام: وقت کا ضیاع یا زندگی کا سبق؟
گرمیوں کی چھٹیاں آتے ہی ہم میں سے اکثر طلبہ یا تو دیر تک سوتے رہتے ہیں یا سارا دن موبائل فون پر گزار دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہمیں ان دنوں میں کوئی جز وقتی کام کرنا چاہیے۔
میرے خیال میں اس کے کئی فائدے ہیں۔ کام کرنے سے ہمیں پیسے کی قدر کا اندازہ ہوتا ہے، کیونکہ جب ہم خود محنت سے کماتے ہیں تو فضول خرچی سے بچتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم وقت کی پابندی، دوسروں سے بات چیت اور ذمہ داری جیسی مہارتیں سیکھتے ہیں جو کسی کتاب میں نہیں ملتیں۔
دوسری طرف، اس کے کچھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر کام کے اوقات بہت لمبے ہوں تو طالب علم تھک جاتا ہے اور آرام یا اگلی جماعت کی تیاری کے لیے وقت نہیں بچتا۔ بعض جگہوں پر کم عمر ملازمین سے ناجائز فائدہ بھی اٹھایا جاتا ہے اور انھیں محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا۔
میری رائے یہ ہے کہ اگر کام محفوظ ہو، روزانہ چند گھنٹوں تک محدود ہو اور والدین کی اجازت سے کیا جائے تو یہ چھٹیوں کا بہترین استعمال ہے۔ چھٹیاں صرف آرام کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ کچھ نیا سیکھنے کا موقع بھی ہوتی ہیں۔
Mark guidance [16]. The syllabus sets 16 marks, approximately 200 words, a stated purpose, format and audience, and objectives W1–W5; the split and bands below are Marlbridge’s practice convention:
- Content and communication (up to 8): 7–8 all prompts developed with reasons and examples, a clear and justified opinion, headline and tone right for a magazine readership; 5–6 all prompts addressed, some development; 3–4 prompts addressed thinly or one missing; 1–2 little relevant content.
- Language and organisation (up to 8): 7–8 a range of structures (conditionals such as اگر … تو، passives such as اٹھایا جاتا ہے، relative clauses with جو) used accurately, clear paragraphs linked with دوسری طرف، اس کے علاوہ، میری رائے یہ ہے کہ; 5–6 generally accurate with some range; 3–4 simple sentences, errors that sometimes blur meaning; 1–2 frequent errors that impede meaning.
Grammar support — not an exercise of Paper 1
Paper 1 has no separately marked grammar exercise. Grammar is assessed inside your writing: the writing objectives include W3, “use a range of grammatical structures and vocabulary accurately and effectively”, and W4, “show control of punctuation and spelling”, and the syllabus’s Writing content asks you to “use a range of grammatical structures, punctuation and vocabulary”. The unmarked drills below build the accuracy that Exercises 4, 5 and 6 reward; they are not a model of any question on the paper.
G1. Identify the اسم، فعل and حرف in this sentence: بچے باغ میں کھیل رہے ہیں۔
G2. Change to the passive voice (مجہول): استاد نے سبق پڑھایا۔
G3. Give the plural of: کتاب، لڑکا، عورت، مکان.
G4. This sentence is from a letter to a school principal: “تم کل سکول کیوں نہیں آئے؟” Identify the register error and give the corrected form.
G5. Explain why the postposition نے is required in this sentence, and name the grammatical feature it marks: لڑکے نے کتاب پڑھی۔
G6. Identify the postposition needed in each blank, and state what it expresses: (a) وہ سکول ___ گیا۔ (movement towards), (b) کتاب میز ___ ہے۔ (location on).
Drill answers
G1. اسم — بچے، باغ. فعل — کھیل رہے ہیں. حرف — میں.
G2. سبق پڑھایا گیا۔ (Accept: استاد سے سبق پڑھایا گیا۔ — though the agentless form is the safer, more natural model here, since marking the agent with سے on an already-causative verb can read as a double causative.)
G3. کتابیں؛ لڑکے؛ عورتیں؛ مکانات / مکان.
G4. تم is the informal address, inappropriate for writing to a school principal, an authority figure who requires the formal register throughout. Corrected: “آپ کل سکول کیوں نہیں آئے؟”, using آپ consistently in place of تم.
G5. نے is the ergative postposition, required because پڑھی is a transitive verb in the perfective (completed past) tense — Urdu marks the subject of such verbs with نے rather than leaving it unmarked.
G6. (a) کو, or no postposition at all in everyday usage (وہ سکول گیا) — both express motion towards a destination; کو is the more literary/formal choice. (b) پر — expressing location on a surface.
Where marks are usually lost
- Exercise 1: writing a whole sentence where a word or phrase is enough, or giving a single detail when the question asks for the purpose of the text.
- Exercise 2: matching on a shared word rather than on meaning — the paragraph that repeats a word from the statement is often the trap.
- Exercise 3: putting a correct note under the wrong heading, or copying whole sentences instead of brief notes.
- Exercise 4: summarising the whole text instead of the aspect the question names, or running past 100 words.
- Exercises 5 and 6: ignoring one of the prompts, or the specified purpose, format and audience; giving advice or opinions as a bare list rather than explaining and justifying them.
- Throughout the writing: using تم in a formal piece or mixing تم and آپ in one piece; forgetting the ergative نے with a transitive verb in the perfective.
Get free revision emails (optional)
Occasional emails with practice questions, worked explanations and links to free resources for the qualification and subjects you choose. No spam, and you can unsubscribe from any email. The free tools on this site never need an email.
Related resources
-
Revision notes
Cambridge IGCSE Urdu as a Second Language: Paper 1 Reading and Writing — Revision Notes (0539)
Condensed recall notes on comprehension technique, register and the accuracy points that decide Urdu marks, for Cambridge IGCSE Urdu 0539.
Urdu Language · Cambridge · IGCSE
Revise topic -
Study guides
Cambridge IGCSE Urdu as a Second Language: Paper 1 Reading and Writing (0539)
Short answer questions, multiple matching, note-making, summary, and writing exercises – the full content of Paper 1 for Cambridge IGCSE Urdu (0539).
Urdu Language · Cambridge · IGCSE
Read guide -
Study guides
Cambridge IGCSE Urdu as a Second Language: Component 5 Speaking (0539)
Presentation, discussion and general conversation – the optional, separately-endorsed Speaking component, distinct from the site's existing guides to the written Paper 1 (Reading and Writing) and Paper 2 (Listening) components.
Urdu Language · Cambridge · IGCSE
Read guide
Related articles
-
teaching
A Level tuition in Dubai: Cambridge or Pearson Edexcel International A Level?
Schools in Dubai and Abu Dhabi teach either Cambridge International AS & A Level or Pearson Edexcel International A Level. How the two are structured, why it matters for tuition, and how online classes from Lahore work.
9 October 2026
-
curriculum guides
Choosing subjects at IGCSE and A Level
How subject choices at 14 and 16 affect university options later, and how to keep pathways open without overloading a timetable.
28 July 2026
Studying this with a teacher
Working through Urdu Language IGCSE?
This page is free and stays free. If you would rather be taught it, Marlbridge runs Urdu Language classes one-to-one and in small groups of up to 15, online in your own time zone. The first trial class is free. WhatsApp replies within an hour (8am–11pm Pakistan time, every day); email the same day.
Cambridge Urdu Language teachers at Marlbridge